امریکہ عراق میں بادشاہ گر تھا ، لیکن اب اس کا انخلاء ناگزیر ہے


عِراق نے کہا ہے: بَغداد کے عِلاقے کی سِیکیورٹی کے سَربراہ عِراقی مَیجر جنرل جَعفر الَباطَع کا تخمینہ ہے کہ “بغداد میں کَردہ Karradah اور جَدرِیئہ Jadriyeh کو پُر کرنے والے مظاہرین کی تعداد 10 لاکھ سے زیادہ ہے۔”  مُظاہرین نے اَمریکی زَیرقیادت غَیر مُلکی افواج کو مُلک سے مکمل طور پر اِنخلا کرنے کا مُطالبہ کیا۔  وہ شِیعہ عَالِم سَید مُقتدا اَلصَدر کی کال کے جواب میں متحرک ہوگئے ، تمام شِیعہ گروہوں اور دیگر عِراقی اقلیتوں کے ساتھ اِتفاقِ رائے سے جو امریکی افواج کی روانگی اور عِراق کے اَمریکی تَسلط کو خَتم کرنا چاہتے ہیں۔  بغداد ایئرپورٹ پر اِیرانی مَیجر جَنرل قَاسم سُلیمانی اور اس کے ساتھیوں اور عِراقی کمانڈر اَبو مَہدی اَلمُہندس کے قتل کے لئے امریکی ڈرون سے مُہلک مِیزائل لانچ کرنے والے پَھانسی کے بَٹن کو آگے بڑھانے کی قِیمت اَمریکہ اور مَشرق وُسطیٰ میں اس کی موجودگی پر بَھاری ہوگی۔  توقع کی جارہی ہے کہ ٹَرمپ اِنتظامیہ کو بَھاری قِیمت اَدا کرنا ہوگی اور صَدر اپنی آنے والی اِنتخابی مُہم میں خُود اِس کا شِکار ہوں گے۔

لَیکن کَہانی وہاں خَتم نہیں ہوتی ہے۔  اِیران اور اس کے اِتحادیوں کا اِنخلا کی آخری تاریخ تک مَشرق وُسطیٰ میں اَمریکی اَفواج کی پُرسَکون موجودگی کی اِجازت دینے کا کوئی اِرادہ نہیں ہے۔  رَہائشی عِلاقوں سے عِراقی اَمریکہ کے تمام مُشترکہ اَڈوں کی دُوری کے بَاوجود ، اس میں کوئی شَک نہیں کہ امریکی فوج کی موجودگی ایک ہَدف بَن چُکی ہے۔

اَمریکی اِنتظامیہ اور مَرکزی دَھارے کے ذَرائع اَبلاغ عِراق کی عَدم اِستَحکام کو اس مُلک کے زبردست اِیرانی کَنٹرول کی وَجہ قَرار دیتے ہیں۔  یہ غَلط ہے: ”ہر ایک وزیر اعظم کو اَمریکی اِنتظامیہ نے مُقرر یا مَنظور کیا تھا“۔

2003 میں جب سے اِس نے اِس مُلک پر قَبضہ کرنا شُروع کیا تھا اس کے بعد سے امریکہ کبھی بھی عِراق میں اِستحکام لانے میں کامیاب نہیں ہوا۔ عِراق میں لینڈنگ کے پہلے سال کے بعد اَمریکی اَفواج کو مُسلسل حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔  امریکہ ایک مَضبُوط اِنفراِسٹرکچَر کی تَعمیر میں ناکام رہا اور یقینی طور پر آبادی کے دِل و دِماغ نہیں جِیتا ، حالانکہ عِراق کے رَہنماؤں کا اِنتخاب کرنے میں اُس کی اَولین تَرجیح تھی۔

اَمریکی کمپنیوں نے عِراقی دَولت سے فائدہ اُٹھایا لیکن اُس نے مُلک کی ترقی اور اِس کے بُنیادی ڈَھانچے کی تَعمیر نَو میں بُہت کم حِصہ لیا۔  عِراقی فوج کی تَربیت کے لئے اَمریکی فوج کو خُوبصُورت رَقم اَدا کی گئی ، اور اَمریکی اَسلحہ سَازی کی صَنعت کو بَڑے پَیمانے پر اَسلحہ اور فوجی جَنگی مُعاہدے سے فَائدہ ہوا۔  تاہم ، اِس تَربِیت کی کوئی اَہمیت نَہیں ثَابت ہوئی جَب سَن 2014 میں سُنی بَاغِیوں اور دَاعش نے مُوصل پر حَملہ کیا تھا۔  وہ تَھوڑے ہی عَرصے میں عِراق کے ایک تِہائی حصے پر قَابض ہَوگئے۔

اَمریکہ بَیشتر حَکومتوں کو کَنٹرول کرتا تھا اور کئی سَالوں سے وزیر اعظم کی تَقرری کا ذَمہ دار تھا۔  پہلا وزیر اعظم ایاد عَلاوی  Ayad Allawi، اَمریکی شَخص تھا ، جِس کا نام اَمریکی زَیر اِقتدار اَتھارٹی نے 2003 میں دیا تھا۔ دوسرے وزیر اعظم ، اِبراہیم اَلجَعفری Ibrahim al-Jaafari ، وائسرائے پال بریمر Paul Bremer کی تجویز پر عُبوری عِراقی قَومی اِسمبلی کے ذَریعے مُنتخب ہوئے تھے۔  2005 میں بِریمر نے نَامزدگی کو قَبول کرنے سے قَبل کئی دن تک اِبراہیم اَلجعفری کا طَویل گَھنٹوں تک اِنٹرویو کیا تھا۔ یہ نَعمت جَلد ہی اُس وقت خَتم ہوگئی جب صدر بُش نے اَمریکی سَفیر زَلمے خَلِیل زَاد کے تَوسط سے وزیر اعظم کو یہ پَیغام پُہنچا کہ اس کے لئے ” اِبراہیم اَلجعفری قَابل قَبول نہیں ،نا ہی اِسے سَپورٹ کرے گا اور نا ہی مَدد کرے گا۔

سَفیر خَلیل زَاد نے کہا کہ 2006 میں ، سب سے بڑی عِراقی سیاسی جماعت ، متحدہ عراقی اتحاد نے امریکی سِفارش پر نُوری اَلمَالکی Nuri al-Maliki  کا اِنتخاب کیا: “مالکی کی شُہرت کِسی ایسے شَخص کی حَیثیت سے ہے جو اِیران سے آزاد ہے۔ اِیران نے جَعفری پر رہنے کے لئے سَب پر دَباؤ ڈالا” ، سَفیر خَلیل زَاد نے کہا۔  اِیران اپنے پَسندیدہ اُمیدوار کو کامیابی کے ساتھ فَروغ دَینے میں ناکام رہا۔

2008 کے اوائل میں ، اَلمَالکی اِیران کا سب سے زَیادہ نَفرت والا عِراقی بن گیا تھا جب اس نے جَیش اَلمَہدی (جے اے ایم) پر حملہ کیا تھا جس کی سربراہی صَادری رَہنما سَید مُقتدا اَلصَدر نے کی تھی۔  جے اے ایم اپنے جَارحَانہ مُوقف اور اَمریکی قَابض اَفواج پر مُتعدد حَملوں کی وَجہ سے ایران کا پَسندیدہ اِنتخاب تھا۔

تَاہم ، کئی مَہینوں کے بعد ، اَلمَالکی نے تمام اَمریکی افواج کے مُلک چَھوڑنے اور 16 ماہ میں اپنا قَبضہ خَتم کرنے کے لئے ایک مُقررہ شَیڈول کا مُطالبہ کیا۔  اس فَیصلے سے اِیران خوش ہوا اور اُس نے اَلمَالکی کے بارے میں اپنے دِل کی تَبدیلی کا بَاعث بنی ، حَالانکہ تَمام عِراقی ، شِیعہ ، سُنی اور کُرد ، اسے حَد سے زیادہ آمر overly authoritarian کے طور پر دَیکھنے کے لئے آئے تھے۔

یہ پَہلا مَوقع تھا جب اِیران نے تمام نَسلوں کے عِراقی رَہنماؤں کو اَپنی پَسند کے اُمیدوار کی حِمایت کے لئے اکٹھا کرنے کا اِنتظام کیا ، حَالانکہ اَمریکیوں نے پَہلے اَلمَالکی کو تَرقی دی تھی۔  اَلمَالکی کی ضِدی شَخصِیت اِیران کے لئے اِتنی دِلکش تھی کہ اُسے جانے ہی نہیں دے سکتا تھا۔  اِنہوں نے اَمریکی فَوج کی مُسلسل مَوجودگی کو قَبول کرنے سے اِنکار کردیا۔  صَدر بُراک اُوباما نے دِسمبر 2011 میں اَمریکی قَبضہ خَتم کرنے کے اَپنے وعدے کو پُورا کرنے پر اَلمَالکی کا اِصرار لیا تھا۔

2014 میں ، نَجف میں مُرجِعیہ نے اپنی اِنتخابی کامیابی کے بَاوجود اَلمَالکی کے لئے تِیسری مُدت رَوکنے کے لئے مُداخلت کی۔  حَیدر اِلعبادی نے اِقتدار سَنبھال لیا ، وہ رَہنما جو مَیجر جنرل قَاسم سُلیمانی سے اِنتہائی دُشمن اور اَمریکہ کے بُہت قَریب ثابت ہوئے۔


سُلیمانی مُتعدد مَواقع پر ، خاص طور پر جب کِرکُوک سرکاری فوج کے کَنٹرول میں واپس آیا۔  مَزید یہ کہ اس نے چار بار کمانڈر اَبو مَہدی اَلمُہندزAbu Mahdi al-Muhandes کو حَشد الشَعبی Hashd al-Shaabi کے نائب رَہنما کے عُہدے سے ہٹانے کا ارادہ کیا۔  حَشد الشَعبی کے دفتر میں عَبادی Abadi’s کے دَورے کے دَوران ، اُس نے دِیوار پر شَہِیدوں کی تَصویر کے لئے اَبو مَہدی پر سَختی سے حملہ کیا اور اُن سے انہیں ہٹانے کو کہا۔  ایک سے زیادہ موقع پر سُلیمانی کو بَغداد اَیئر پَورٹ پر پَریشانی کا سَامنا کرنا پڑا اور اِن کا اِستَقبال کرنے سے قَبل اسے عَبادی کے دَفتر کے بَاہر گَھنٹوں اِنتظار کرنا پڑا۔

عَبادی کی مُدت مُلازمت کے خَاتمے کے بعد وزیر اعظم عَادِل عَبدُل مَہدی کی قَیادت سَنبَھالنے کی جگہ بن گئی۔  عَبدُل مَہدی کا اِنتخاب اَمریکی صدر کے مَندوب بَریٹ مَیک گِرک اور سُلییمانی دونوں کا مُشترکہ غَیر مَربوط اِنتخاب تھا۔  عَبدُل مَہدی شِیعہ ، سُنی اور سب سے بڑھ کر کُردوں کے لئے مَوزوں اُمیدوار تھے۔

اِیران کے لئے یہ ضَروری تھا کہ وہ اَیسے اُمیدوار کی حِمایت کرے جِس نے اَمریکہ کو مُشتَعل نہ کیا ہو ، جِسے اِیران مَشرقی وُسطیٰ میں ایک لازمی کِھلاڑی کے طَور پر تَسلِیم کرتا ہے۔  سُلیمانی کے نزدیک عِراق کا اِستَحکام اِنتہائی ضَروری تھا۔  عِراق نے اِیران پر اَمریکی پَابندیوں کی پَابندی سے اِنکار کردیا اور کہا کہ دونوں مُمالک کے شَراکت دار کی حَیثیت سے ان کا اَحترام کیا جائے ، نہ کہ ان کی لڑائیوں کا تَھیٹر۔

لیکن اِیران کو یَقینی طَور پر تَوقع نہیں تھی کہ اَمریکہ عِراق میں اپنی مَوجودگی کی شَرائط کی بے دَردی سے خِلاف وَرزی کرے گا اور اِیران کے ساتھ غَیر اَعلان شُدہ جَنگ لڑے گا۔  اَمریکی دُشمنی عِراقی سَرزمین پر پَنجہ آزمائی bras-de-fer سے آگے بڑھ گئی جَب اس نے مَیجر جَنرل قَاسِم سُلیمانی کو ہَلاک کیا۔  اِس خِلاف وَرزی کے جَواب میں ، اِیران دَستانے اُتار رہا ہے: اب تَوقَع کی جارہی ہے کہ وہ عِراق میں اَمریکہ کے بارے میں کَہیں زِیادہ جَارحانہ اَنداز اپنائے گا۔

اَمریکہ نے عِراق میں سُلیمانی کا قَتل کیا اور اِسی جَگہ پر اِیران کی طرف سے جَوابی کَارروائی کا اِمکان زَیادہ تر مِلتا ہے۔  عَین اَلاسَد Ayn al-Assad اَڈے کے اَمریکی مَقبُوضہ حِصے کے خِلاف شُروع ہونے والے مِیزائلوں میں کم از کم 34 زَخمیوں (اب تک اعلان کیا گیا) کے ساتھ اِیران کے اِنتقَامی کارروائی کا آغاز ہی ہے۔

عِراق میں اَمریکی ہَدف تلاش کرنا آسان کام نہیں ہے کِیونکہ تمام اَمریکی اَفواج اپنے اَڈوں کے اَندر مُوجود ہیں۔  ان قُوتوں کو مُقفّل کرنا اور صِرف ہَوائی ٹَریفِک کی اِجازت دینا اِن قُوتوں کے لئے پہلے ہی ایک دَھچکا ہے جو سُلیمانی اور اُس کے ساتھیوں کے قَتل کے دِن سے ، ایک ناقَابل شِکست نِشانہ ہے۔

اِیران نے سَید مُقتَدا الصَدر کو ایک مُتنازعہ لیکن بَااثر عِراقی رَہنما پایا ہے ، جو خُود بُری طرح اَمریکی اَفواج کو عِراق سے بَے دَخل کرنے کی مُہم کی قَیادت کرنے میں کَمانڈ پَوزیشن لینا چاہتا تھا۔  اَمریکی رَوانگی آسان نہیں ہے۔  لیکن اِیران اَمریکہ کا ایک مُتضاد دُشمن ہے اور اپنے مَقاصِد تک پہنچنے کے لئے حَد سے زِیادہ بَے چَین نہیں ہے۔  تَہران بَخُوبی وَاقِف ہے کہ عِراق ایک اِسٹریٹِجِک اِتحادی کی حَیثیت سے اِیران اور ہَمسایہ مُلک کی حَیثیت سے اِیران کے مَابَین تَوازن بَرقَرار رکھنے میں ایک بار پھر نَاکام ہَوجائے گا  اور اَمریکہ ، اِس اِنتظَامیہ کے تَحت ، اپنے آپ کو مَضبُوط مَحسُوس کرتا ہے لیکن اَبھی تک عِراقی سَرزَمین پر اِیران کے ساتھ اس طرح کا شَدِید بُحران یا اُس سے بھی وَسیع تر تَنازعہ سے نِمٹنے کے لئے مَعلومات اور پُختَگی کا فُقدَان ہے۔

کیا صَدر ٹَرمپ کو اپنے پَیش رَو بَارک اُوبامَا کے سَن 2011 میں عِراق سے اِنخلا کے فَیصلے کی دُرستگی کا اَحساس ہو گا؟  صَدر ٹَرمپ کو ایک رَاستہ یا دوسرا رَاستہ چَھوڑنے پر مَجبور کیا جائے گا۔ عِراقی اَمریکی فَوجیوں کو مَیسوپَوٹِیمیا سے باہر نکال دیں گے۔  اس سے لاَمُحالہ رُوس ، چِین اور اِیران کے لئے تیَل سے مَِالا مَال عِراق اور اس کے 40 ملین بَاشندوں کی آبادی کا رَاستہ کُھل جَائے گا جَو ایک مَطلوبہ مَنڈی کی نُمائندگی کَرتے ہیں۔  دُنیا کے اس حِصے میں اَمریکی تَسلُط کا سُورج غُروب ہَونے لَگا ہے۔

مترجم: محمد طاہر خانزادہ ٹنڈوالہیار 
پاکستان 

Elijah J. Magnier : @ejmalrai

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.